Sunday, April 21, 2024
الرئيسيةDelhiاردو دشمنی سے عبارت ہے کجریوال کا ایجوکیشن ماڈل : ...

اردو دشمنی سے عبارت ہے کجریوال کا ایجوکیشن ماڈل : کلیم الحفیظ

سلیم پور کے برہم پوری اسکول پنڈٹ مدن موہن مالویہ کے
طلباء کو اردو تعلیم سے روکنا مہاتما گاندھی کی زبان کے ساتھ تفریق اور عام آدمی پارٹی کی فرقہ پرست سوچ کا عکاس ہے
نئی دہلی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین دہلی ریاست کے صدر کلیم الحفیظ نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال اور دہلی حکومت کی اردو دشمنی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سلیم پور کے پنڈت مدن موہن مالویہ اسکول برہم پوری کے گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلباء کو اردو زبان کی تعلیم سے روکنا شرمناک ہے پوری دنیا میں دہلی کے ایجوکیشن ماڈل کی دہائی دینے والے کجریوال کے ماڈل میں اردو پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ کلیم الحفیظ نے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کو اسی عام آدمی پارٹی نے چالاکی کے ساتھ سرکاری دفاتر سے نکال باہر کیا اور اب مہاتما گاندھی جس زبان میں لکھا کرتے تھے اس زبان پر حملہ کیا جارہا ہے۔ باپو کی زبان کے ساتھ بھید بھاؤ اور تفریق برداشت نہیں کی جائے گی مجلس اس کے خلاف آواز اٹھائے گی۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی اور عام آدمی پا رٹی میں کوئی فرق نہیں ہے اس کرتوت سے عآپ کے کنوینر اروند کجریوال کی فرقہ پرستی اور بھگوا گیری بے نقاب ہوگئی ہے۔دہلی میں دہلی آفیشیل لینگویج ایکٹ 2000کے تحت اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے او ر سہ لسانی فارمولہ کے تحت دہلی کے طلباء کو اردو پنجابی جیسی زبانوں کو پڑھنے کا حق ہے اور دہلی میں کسی بھی اسکول میں اگر اردو پڑھنے والے دس طلباء ہوں تو اساتذہ کی تقرری ضروری ہوتی ہے لیکن موجودہ اروند کجریوال سرکار تمام قوانین اور ضابطوں کو توڑ کر اردو کے ساتھ ناانصافی کررہی ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ خود سردار بھگت سنگھ جن کی تصویرباپومہاتما گاندھی کی فوٹو ہٹاکر عام آدمی پارٹی نے سرکاری دفاتر میں لگائی ہے ان کی زبان پر اردو زبان کے شعر ہوتے تھے وہ زبان جو ملک کی آزادی کے ساتھ جڑی ہو جس زبان نے جے ہند، انقلاب زندہ باد کا نعرہ دیا ہوں اس زبان کے ساتھ تفریق کا گناہ دہلی حکومت کررہی ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ آخر کیوں دہلی حکومت اردو پڑھنے کی اجازت نہیں دے رہی کس قانون کے تحت اردو پڑھنے سے روکا جارہا ہے آخر جب گزشتہ سال تک طلباء کو اردو آفر کی جارہی تھی تو اس سال کیوں اجازت نہیں ہے۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ اروند کجریوال نے دہلی میں اردو اساتذہ کی تقرری کے لئے تفریق پر مبنی پالیسی بنائی تھی جس کی وجہ سے دہلی اردو اساتذہ کی تقرری پندرہ فیصد ہوسکی آج دہلی میں اردو ٹیچر نہیں ہیں،دہلی اردو اکیڈمی میں 44کی جگہ صرف چار افراد ہی مستقل ملازمین ہیں آخر محکمہ آرٹ اییڈ کلچر سے ارد و ڈیسک کیوں ختم کردی گئی۔کلیم الحفیظ نے کہا کہ جس طرح سے بی جے پی کو اردو زبان برداشت نہیں ہے اسی راہ پر عام آدمی پارٹی چل رہی ہے سچائی یہ ہے کہ مسلم دشمنی میں بی جے پی کے ساتھ عام آدمی پارٹی بھی شامل ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ دہلی حکومت محکمہ تعلیم کو فوری طورپر ہدایت جاری کرے کہ طلباء کو اردو آفر کی جائے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments