Monday, February 26, 2024
الرئيسيةDelhiامر شہید بھگت سنگھ کے 115 ویں یوم پیدائش پر حب الوطنی...

امر شہید بھگت سنگھ کے 115 ویں یوم پیدائش پر حب الوطنی سے بھرپور رنگا رنگ ثقافتی پروگرام

بھگت سنگھ کو قومی بیٹا قرار دے کر شہیدوں کے افکار اور پیغام کو عام کیا جائے۔
ذات پات چھوڑو، ملک سےناطہ جوڑو: راجیو جولی کھوسلا
نئی دہلی ,28 ستمبر(قومی آغاز نیوز)
امر شہید بھگت سنگھ کے 115 ویں یوم پیدائش کے موقع پر راجیو جولی کھوسلہ کے کامیاب انعقاد کے تحت حب الوطنی سے بھرپور رنگا رنگ ثقافتی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں کئی فنکاروں اور گلوکاروں نے حب الوطنی کے گیت گا کر سب کو مسحور کر دیا۔ جذبہ حب الوطنی اور موسیقی کے اس سریلے پروگرام میں شامل لوگ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور فنکاروں کے ساتھ مل کر حب الوطنی کے گیتوں پر رقص کرتے رہے۔ سٹیج پر اداکاری کی۔ سارا ماحول سریلی، موسیقی اور مسرت سے بھرپور رہا۔
لافانی شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امر شہید بھگت سنگھ کے انقلابی کاموں کو یہاں نہ صرف بتایا گیا بلکہ فنکار ہتیش نے بھی بھگت سنگھ کا کردار ادا کیا۔
پروگرام کے مہمان خصوصی انقلابی اور امر شہید اشفاق اللہ خان کے خاندانی جنکا نام بھی اشفاق اللہ خان ہے رہے۔

رنگارنگ پروگرام کامنظر

اس موقع پر ڈاکٹر سپنا بنسل، دیپک وج، اشوک جی، سشیل کھنہ، سکھویندر سنگھ سدھو، رمیش جی، شاعر عارف دہلوی، گلوکارہ کنچن، راہول انقلاب سمیت کئی معززین اور فنکاروں نے اپنی پرفارمنس کے ساتھ شرکت کی۔ منتظمین کی جانب سے راجیو جولی کھوسلہ کی سرپرستی میں مہمان خصوصی شہید اشفاق اللہ خان کے دستے مبارک سے شہداء کی تصاویر پر مشتمل گھڑی بھی بطور تحفہ پیش کی گئی۔ کئی سماجی کارکنوں، فنکاروں اور طلباء کو شہیدی گھڑیاں دی گئیں۔ سینئر صحافی اور مصنف انوار احمد نور کو بھی اعزاز دیا گیا۔
راجیو جولی نے کہا کہ شہداء کو یاد کرنے اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا یہ سلسلہ 20-22 سال سے مسلسل جاری ہے، میں شہداء کے تئیں اپنا کام لگاتار کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہندو مسلم سکھ عیسائی، آپس میں بھائی بھائی ہیں، ذات پات چھوڑیں، ہندوستان سے جوڑیں۔ جب ہندوستان باقی نہیں رہے گا تو ذات پات کا کیا کریں گے؟

ڈاکٹر سپنا بنسل نے کہا کہ بھگت سنگھ اور تمام شہداء کو مکمل احترام دیا جانا چاہیے۔ جس طرح ہم بابائے قوم مہاتما گاندھی کو مانتے ہیں، اسی طرح بھگت سنگھ کو بھی قوم کے بیٹے کا اعزاز اور لقب ملنا چاہیے۔
اشوک جی نے بھگت سنگھ کو اپنا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب بھیڑ اور بھیڑ سے نہیں آتا، انقلاب شہید بھگت سنگھ سے آتا ہے۔ اشفاق اللہ خان سے آتا ہے۔
شاعر عارف دہلوی نے ہندوستان کی موجودہ صورتحال کو ظاہر کرتے ہوئے اپنا کلام پیش کیا۔
شاہجہاں پور سے تشریف لائے ہوئے مہمان خصوصی محترم اشفاق اللہ خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے تمام انقلابیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور آزاد ملک جس آزاد فضا میں آج ہم سانس لے رہے ہیں وہ شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ مگر ان انقلابیوں اور شہداء کو وہ عزت نہیں مل رہی جو ملنی چاہیے تھی۔ انہیں آج نہ صرف یاد کیا جانا چاہئے بلکہ ان کے جذبہ حب الوطنی کے پیغام کو نوجوان نسل اور ملک کے عوام میں پھیلانا چاہئے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments