Wednesday, April 17, 2024
الرئيسيةNews۔ 26 نومبر: جب رک گئی تھی بھاگتی دوڑتی ممبئی ۔۔۔۔۔

۔ 26 نومبر: جب رک گئی تھی بھاگتی دوڑتی ممبئی ۔۔۔۔۔

۔26 نومبر کی تاریخ ملک اور خاص طور پر ممبئی کو ہمیشہ یاد رہے گا،ملک کیسے بھول سکتا ہے اس خونی تاریخ کو جب سرحد پار سے دہشت گردوں نے اقتصادی راجدھانی ممبئی میں لاشیں بچھا دیں تھی ۔ہمیشہ دوڑنے بھاگنے والی ممبئی رک گئی تھی ۔دہشت کے سائے میں پورا ملک سکتے میں تھا۔

۔ 26 نومبر 2008 کو ان دہشت گردوں نے ملک کے اقتصادی دارالحکومت ممبئی میں لاشیں بچھا کر ہندوستان کو سکتے میں ڈال دیا تھا۔  شام کا وقت تھا۔ ممبئی ہمیشہ کی طرح بھاگ دوڑ میں مصروف تھی۔ تب اسے معلوم نہیں تھا کہ 10 افراد جن کے ہاتھ میں اسلحہ تھا بحیرہ عرب کے راستے اس تک پہنچ رہے ہیں۔ ان 10 دہشت گردوں کے بیگ میں 10 اے کے 47، 10 پستول، 80 دستی بم، 2 ہزار گولیاں، 24 میگزین، 10 موبائل فون، دھماکہ خیز مواد اور ٹائمر تھے۔

اتنا سب کچھ ممبئی کو دہلانے کے لئے کافی تھا۔ اس کے ساتھ وہ کھانے کے لیے بادام اور کشمش بھی لائے تھے۔ ا ن کے آقا بار بار ان سے کہہ رہے تھے تمہارے چہرے پر چاند کی طرح نور دکھائی دے گا۔تمہارے جسم سے گلاب کی مہک آئے گی اور تم سیدھے جنت جاو¿گے۔ ‘ اس رات ٹھیک 8:20 پر اجمل قصاب اور اس کے نو ساتھیوں نے ممبئی میں قدم رکھا۔ اس سے کہا گیا، ‘تمہارا سب سے بڑا ہتھیار انہیں حیران کرنا ہے۔’ انہیں ٹیکسیوں میں ٹائم بم لگانے کا طریقہ سکھایا گیا تاکہ وہ شہر بھر میں وقفے وقفے سے بلاسٹ ہو۔

ممبئی میں اترنے کے بعد دہشت گرد دو گروپوں میں بٹ گئے اور مختلف راستوں پر چلے گئے۔ پہلا حملہ رات 9.43 بجے لیوپولڈ کیفے کے باہر ہوا۔ دہشت گرد جس ٹیکسی سے آئے تھے اس میں ٹائم بم نصب کر رکھا تھا۔ ٹیکسی ابھی رکی ہی تھی کہ بم پھٹ گیا۔ ڈرائیور اور اس میں بیٹھی دو خواتین ہلاک ہو گئیں۔ جب لوگ وہاں سے بھاگے تو سڑک سے ہی دو دہشت گردوں نے اے کے 47 سے فائرنگ شروع کردی۔ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ پہلے حملے کے ٹھیک 2 منٹ بعد، ممبئی کے چھترپتی شیواجی ٹرمینس پر صبح 9.45 پر حملہ ہوا۔ اسے دو دہشت گردوں اجمل قصاب اور اسماعیل خان نے انجام دیا تھا۔ قصاب لوگوں پر گولیاں چلا رہا تھا، جبکہ اسماعیل کا کام بھاگتے ہوئے لوگوں پر دستی بم پھینکنا تھا۔ اس حملے میں سب سے زیادہ 58 لوگ مارے گئے۔ اس رات ممبئی جو کسی کے لیے نہیں رکی تھی، رک گئی۔

اس حملے کے بعد قصاب اور اسماعیل وہاں سے کاما اسپتال پہنچے۔ اس نے اندر داخل ہوتے ہی چوکیدار کو مار ڈالا۔ اسپتال کے باہر دہشت گردوں کے ساتھ انکاو¿نٹر ہوا، جس میں اس وقت کے اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے اور ممبئی پولیس کے اشوک کامٹے اور وجے سالسکر شہید ہوگئے تھے۔ پولیس پہلے ہی قصاب اور اسماعیل کے پیچھے تھی۔ دہشت گردوں کی گاڑی بھی پنکچر ہوگئی۔ اس کے بعد انہوں نے اسکوڈا کار چھین لی۔ پولیس نے آگے رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ گاڑی بھی بیریکیڈنگ سے پہلے رک گئی۔ اس کے بعد اسماعیل نے اپنی طرف آنے والے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے بھی گولی کا جواب گولی سے دیا۔ اسماعیل پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ لیکن قصاب زندہ پکڑا گیا۔ تاہم اس تصادم میں پولیس انسپکٹر تکارام اومبلے شہید ہوگئے۔ اسی رات دو دہشت گردوں نے نریمن ہاو¿س کو بھی نشانہ بنایا۔ یہودی سیاح اکثر یہاں ٹھہرتے تھے۔ دونوں دہشت گرد بعد میں مارے گئے لیکن مرنے سے پہلے انہوں نے کئی لوگوں کو بھی مار ڈالا۔

اسی رات دو دہشت گرد اوبرائے ہوٹل میں داخل ہوئے اور چار دہشت گرد تاج پیلس ہوٹل میں داخل ہوئے۔ تاج میں داخل ہوتے ہی دہشت گردوں نے تھیلے زمین پر رکھے اور ان سے اے کے 47 نکال کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ تاج ہوٹل پر حملے کے بعد ہی ممبئی اور دنیا کو پتہ چلا کہ کتنا بڑا دہشت گرد حملہ ہوا ہے۔ دونوں دہشت گرد مارے گئے لیکن تب تک وہ بھی 31 افراد کو ہلاک کر چکے تھے۔ دو دہشت گرد بھی بہت سے گولہ بارود کے ساتھ اوبرائے ہوٹل میں داخل ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ حملے کے وقت ہوٹل میں 350 افراد موجود تھے۔ این سی جی کمانڈوز نے دونوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ لیکن تب تک 32 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے تھے۔

26 نومبر کی رات 9.43 بجے شروع ہونے والا دہشت گردی کا ننگا ناچ 29 نومبر کی صبح 7 بجے ختم ہوا۔ موت کا یہ ننگا ناچ 60 گھنٹے تک جاری رہا۔ اس حملے میں 166 افراد مارے گئے تھے۔ مقابلے میں نو دہشت گرد مارے گئے۔ واحد دہشت گرد اجمل قصاب زندہ پکڑا گیا۔ قصاب کو 21 نومبر 2012 کو پھانسی دی گئی۔ اس حملے میں کل 11 فوجی شہید ہوئے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments