Monday, February 26, 2024
الرئيسيةNewsامانت اللہ خان 14 دن کے لیے عدالتی حراست میں بھیجے...

امانت اللہ خان 14 دن کے لیے عدالتی حراست میں بھیجے گئے

نئی دہلی، 26 ستمبر ۔

دہلی کی راو¿ز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج وکاس دھول نے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے امانت اللہ خان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ امانت اللہ خان کی اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) کی حراست آج ختم ہو رہی تھی جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ قبل ازیں 21 ستمبر کو عدالت نے انہیں آج تک اے سی بی کی تحویل میں بھیج دیا تھا۔

امانت اللہ خان پر وقف بورڈ کی بھرتی میں بددیانتی کا الزام ہے۔ انہیں 16 ستمبر کو اے سی بی نے اسی معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ 17 ستمبر کو پبلک پراسیکیوٹر اتل کمار سریواستو نے اے سی بی کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اپنے رشتہ داروں کو وقف بورڈ میں بھرتی کیا ہے۔ بھرتی کے لیے ایک مقامی اخبار میں اشتہار دیا گیا لیکن اوکھلا سے 22 لوگوں کو بھرتی کیا گیا جہاں سے امانت اللہ خان ایم ایل اے ہیں۔

سریواستو نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں لی گئی رقم اتراکھنڈ اور تلنگانہ کو بھیجی گئی تھی۔ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ایم ایل اے کی آمدنی 4 لاکھ 32 ہزار روپے ہے اور انہیں 4 کروڑ روپے نقد ملے ہیں۔ جانچ کے دوران اے سی بی حکام کے ساتھ بدتمیزی کی گئی، تھپڑ مارے گئے۔ ایم ایل اے کے گھرسے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔امانت اللہ خان کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل راہول مہرا نے کہا تھا کہ اے سی بی تحقیقات کے لیے کہیں بھی جا سکتا ہے۔ وہ تلنگانہ چھوڑ کر لندن بھی جا سکتا ہے۔ وقف ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مہرا نے کہا کہ بھرتی میں بے ضابطگیاں ہو سکتی ہیں لیکن بھرتی غیر قانونی نہیں ہے۔ راہول مہرا نے کہا کہ ایم ایل اے سے 4 کروڑ روپے کا کیا تعلق ہے؟ اے سی بی جو چاہے کہہ سکتا ہے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments