Saturday, March 2, 2024
الرئيسيةNewsدہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے دہشت گردی کی مالی معاونت: امت...

دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے دہشت گردی کی مالی معاونت: امت شاہ

نئی دہلی،18نومبر ۔

مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے جمعہ کو دہشت گردی کی مالی معاونت کو دہشت گردی سے کہیں زیادہ خطرناک قراردیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو سپورٹ سسٹم دہشت گردی کے برابر ہی دنیا کے لئے خطرناک ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری کو مل کر اسے روکنے کی اپیل کی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج نئی دہلی میں’دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردی کے عالمی رجحانات‘ کے موضوع پر تیسری ’دہشت گردی کے لیے کوئی پیسہ نہیں‘ وزارتی کانفرنس کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بلاشبہ دہشت گردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے سب سے سنگین خطرہ ہے، لیکن دہشت گردی کی مالی معاونت خود دہشت گردی سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس طرح کی مالی معاونت سے دہشت گردی کے ‘ذرائع اور طریقے’ پروان چڑھتے ہیں۔ مزید یہ کہ دہشت گردی کی مالی معاونت دنیا کے ممالک کی معیشت کو کمزور کرتی ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ ہندوستان دہشت گردی کی، اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں مذمت کرتا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ کوئی بھی وجہ، معصوم جانیں لینے جیسے عمل کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ انہوں نے پوری دنیا میں دہشت گرد حملوں کے متاثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس برائی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہندوستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہاہے، جس کی سرپرستی سرحد پار سے کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سیکورٹی فورسز اور شہریوں کو انتہائی سنگین دہشت گردی کے واقعات سے مسلسل اور مربوط انداز میں نمٹنا پڑا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کا ایک اجتماعی نقطہ نظر ہے کہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی جانی چاہیے، لیکن تکنیکی انقلاب کی وجہ سے دہشت گردی کی شکلیں اور مظاہر مسلسل ارتقائ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دہشت گرد اور دہشت گرد گروہ جدید ہتھیاروں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی باریکیوں اور سائبر اور مالیاتی اسپیس کی ڈائنامکس کو بخوبی سمجھتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ”ڈائنامائٹ سے میٹاورس“ اور ”اے کے 47 سے ورچوئل اثاثوں“ میں تبدیلی یقیناً دنیا کے ممالک کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور اس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی بنانے کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ جناب شاہ نے مزید کہا کہ ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خطرے کو کسی مذہب، قومیت یا گروہ سے منسلک نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کیا چاہیے۔ امت شاہ نے کہا کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے، ہم نے حفاظتی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ قانونی اور مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود دہشت گرد، تشدد کرنے، نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے اور مالی وسائل اکٹھا کرنے کے لیے مسلسل نئے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ ‘ڈارک نیٹ’ کو دہشت گرد بنیاد پرست مواد پھیلانے اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مزید برآں، کرپٹو کرنسی جیسے ورچوئل اثاثوں کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان ڈارک نیٹ سرگرمیوں کے نمونوں کو سمجھنے اور ان کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ ایسے ممالک ہیں، جو دہشت گردی سے لڑنے کے ہمارے اجتماعی عزم کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، یا اس میں رکاوٹ بھی ڈالتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ بعض ممالک دہشت گردوں کو تحفظ اور پناہ دیتے ہیں، ایک دہشت گرد کو تحفظ دینا، دہشت گردی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہوگی کہ ایسے عناصر اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہوں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اگست 2021 کے بعد جنوبی ایشیائی خطے کی صورتحال بدل گئی ہے اور حکومت کی تبدیلی اور القاعدہ اور آئی ایس آئی ایس کا بڑھتا ہوا اثر علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر ابھرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نئی صف بندیوں نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ تین دہائیاں قبل پوری دنیا کو ایک ایسی ہی حکومت کی تبدیلی کے سنگین نتائج بھگتنے پڑے ہیں، جس کا نتیجہ ہم سب نے 9/11 کے ہولناک حملے میں دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں جنوبی ایشیائی خطے میں گزشتہ سال کی تبدیلیاں ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ القاعدہ کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں بھی مسلسل دہشت پھیلا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے آج اس کانفرنس کا آغاز ،ہندوستان کے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے خطاب سے کیا ہے اور ان 2دنوں میں دہشت گردی کی مالی معاونت کے مختلف پہلوو¿ں پر بامعنی بحث ہوگی اور موجودہ حالات اور مستقبل کے چیلنجوں کے لیے بامعنی حل پر غور کیا جائے گا۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہندوستان کے وزیر داخلہ کے طور پر، وہ کانفرنس کو یقین دلاتے ہیں کہ ‘دہشت کے لیے کوئی پیسہ نہیں’ کے مقصد کے تئیں ہماری وابستگی اتنی ہی مضبوط ہے، جتنی اس تقریب میں شرکت کے لیے آپ کا جوش! جناب شاہ نے کہا کہ پینل کے ساتھی مقررین سے سن کر بہت اچھا لگے گا اور کل اختتامی اجلاس میں جناب امت شاہ کچھ متعلقہ مسائل پر اپنے خیالات پیش کرنا چاہیں گے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments