Monday, February 26, 2024
الرئيسيةNewsہماچل پردیش میں 66 فیصد پولنگ ، سرمور ضلع میں سب سے...

ہماچل پردیش میں 66 فیصد پولنگ ، سرمور ضلع میں سب سے زیادہ ووٹنگ

وزیراعلیٰ، کابینی وزراءسمیت 412 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند

شملہ ، 12 نومبر  

ہماچل پردیش کی 68 اسمبلی سیٹوں کے لیے آج شام 5 بجے ووٹنگ ختم ہو گئی ہے۔ریاست 66 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل شام پانچ بجے تک 65.92فیصد ووٹنگ کی خبر تھی۔ تاہم وہ ووٹرز جو پولنگ اسٹیشنوں کے اندر شام 5 بجے تک قطار میں کھڑے ہیں وہ اپنا ووٹ ڈال سکیں گے۔ اس سے ووٹنگ کا فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

ہفتہ کو جمہوریت کے اس عظیم تہوار میں نوجوانوں ، خواتین اور بوڑھوں سمیت مختلف عمر کے ووٹرز نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق شام پانچ بجے تک تقریباً 65.92 فیصد ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ تاہم پولنگ کے حتمی اعداد و شمار دور دراز پہاڑی علاقوں سے پولنگ پارٹیوں کی واپسی کے بعد جاری کیے جائیں گے۔ ایسے میں ووٹنگ فیصد بڑھنے کی امید ہے۔

الیکشن کمیشن کے دفتر سے موصولہ اطلاع کے مطابق سرمور ضلع میں سب سے زیادہ 72.35 فیصد اور کنور میں سب سے کم 62 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔

اس کے علاوہ ضلع بلاس پور میں 65.72 فیصد ، چمبہ میں 63.09 فیصد ، ہمیر پور میں 64.74 فیصد ، کانگڑا میں 63.95 فیصد ، کولو میں 64.59 فیصد ، لاہول اسپتی میں 67.50 فیصد ، منڈی میں 65.59 فیصد ، شملہ میں 65.66 فیصد ، سولن میں68.48 فیصداور اونا میں67.67فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ لاہول سپتی ضلع کے تاشی گنگ میں دنیا کے بلند ترین پولنگ اسٹیشن پر 100 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی۔ اس پولنگ اسٹیشن میں تمام 52 ووٹرز نے ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کی۔

چیف الیکٹورل آفیسر منیش گرگ نے کہا کہ ریاست میں 65.92 فیصد پولنگ ہوئی ہے۔ یہ معلومات پولنگ اسٹیشنوں پر شام 5 بجے تک ہونے والی پولنگ کے بارے میں ہے۔ ووٹنگ کے اصل اور حتمی اعداد و شمار بعد میں جاری کیے جائیں گے اور اس میں تبدیلیاں ممکن ہیں۔ پولنگ پارٹیوں کے مراکز پر واپس آنے کا انتظار کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کو سیل کر کے سخت حفاظتی انتظامات میں ضلع ہیڈکوارٹر پر قائم اسٹرانگ رومز میں رکھا جائے گا۔ تمام اسٹرانگ رومز میں سی آر پی ایف ، آرمڈ پولیس اور ریاستی پولیس کی تین سطحی سیکورٹی ہوگی۔ اس کے علاوہ سی سی ٹی وی پورے وقت ای وی ایم پر نظر رکھے گا۔ اسٹرانگ روم کی باقاعدہ چیکنگ ہوگی اور اس کی ویڈیو گرافی بھی کی جائے گی۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ ریاست میں سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں 75.57 فیصد پولنگ ہوئی تھی۔ 2012 کے انتخابات میں ووٹر ٹرن آو¿ٹ 73.5 فیصد ، 2007 کے انتخابات میں 71.61 فیصد، 2003 میں 74.51 فیصد اور 1998 میں 71.23 فیصد تھا۔ اس بار پولنگ فیصد بڑھانے کے لیے محکمہ الیکشن نے اپنی تمام تر کوششیں لگا دی تھیں۔

412 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند

ہماچل پردیش کی 14ویں قانون ساز اسمبلی کی 68 نشستوں کے لیے پیر کو ہونے والے انتخابات میں 412 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں سیل ہوگئی۔ 8 دسمبر کو انتخابی نتائج کا اعلان ہونے پر قسمت کا ڈبہ کھل جائے گا۔ ریاست بھر میں کل 55.92 لاکھ ووٹروں کے لیے 7881 پولنگ بوتھ بنائے گئے تھے۔

اس الیکشن میں ریاست کے کئی تجربہ کار لیڈروں کی ساکھ داو¿ پر لگی ہے۔ ان میں وزیر اعلیٰ جے رام ٹھاکر ، کابینہ کے وزراءسریش بھردواج ، وریندر کنور ، شرون چودھری ، راکیش پٹھانیا ، گووند سنگھ ٹھاکر ، بکرم ٹھاکر ، راجیو سہجل ، راجیندر گرگ اور اسمبلی اسپیکر وپن سنگھ پرمار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کی ریاستی انتخابی مہم کمیٹی کے صدر سکھوندر سنگھ سکھو ، قائد حزب اختلاف مکیش اگنی ہوتری ، کانگریس کے سابق وزیر کول سنگھ ٹھاکر ، آشا کماری ، دھنی رام شندیل ، سابق ریاستی کانگریس صدر کلدیپ سنگھ راٹھور ، وکرمادتیہ سنگھ، سابق صدر کے بیٹے وکرمادتیہ سنگھ کی قسمت ای وی ایم میں قید ہوگیا ہے۔

 

 

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments