Monday, April 15, 2024
الرئيسيةNewsدہشت گردی کی پراکسی جنگ، عالمی امن کے لیے مشترکہ کارروائی ضروری:...

دہشت گردی کی پراکسی جنگ، عالمی امن کے لیے مشترکہ کارروائی ضروری: وزیراعظم

نئی دہلی،18 نومبر

۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ایک آواز اور ایک قدم تال کے ساتھ دہشت گردی پر براہ راست حملہ کرنے کی عالمی کال کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کی عدم موجودگی امن کی علامت نہیں ہے بلکہ پراکسی وار زیادہ خطرناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض ممالک دہشت گردی کو نظریے کا حصہ سمجھ کر حمایت کر رہے ہیں۔ دنیا کو ایسے ممالک کے خلاف متحد ہو کر ایکشن لینا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ہوٹل تاج پیلس (نئی دہلی) میں انسداد دہشت گردی کی مالی اعانت سے متعلق تیسری ‘نو منی فار ٹیرر (این ایم ایف ٹی) وزارتی کانفرنس کو خطاب کیا۔

اس عالمی کانفرنس میں وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف متحدہ کارروائی کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی کوششوں میں چین کی رکاوٹ پر بھی درپردہ حملہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی روکنے کے لیے بعض اوقات دہشت گردی کی حمایت میں بالواسطہ وجوہات دی جاتی ہیں۔ عالمی خطرے سے نمٹنے کے دوران اس طرح کے ڈھل مل رویے کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

دہشت گردی کے بارے میں کچھ غلط فہمیوں کی وجہ سے اجتماعی کوششوں میں آرہی رکاوٹوں کا ذکر کرتےہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اس کے خطرے کے بارے میں دنیا کو کسی کو یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ ہر قسم کے دہشت گردانہ حملوں کے خلاف بیک وقت بھرپور مذمت اور سخت کارروائی ہونی چاہیے۔ ہمارا ردعمل اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ دہشت گرد حملہ کہاں ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کو یکساں، متحد اور زیرو ٹالرنس کے ساتھ ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ وزیراعظم نے دہشت گردی سے نمٹنے کے اقدامات پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے لیے آگے بڑھتے ہوئے بڑے پیمانے پر اور مرحلہ وار کام کرنا ہوگا۔ ہمیں دہشت گردی کے لیے سپورٹ نیٹ ورک اور فنڈنگ کے ذرائع پر براہ راست حملہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ کارروائی، انٹیلی جنس میں باہمی تعاون اور حوالگی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد مل سکتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ دو روزہ کانفرنس میں کئی ممالک کی نمائندگی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کو اس کانفرنس سے دور رکھا گیا ہے۔ 18-19 نومبر کو منعقد ہونے والی یہ دو روزہ کانفرنس شریک ممالک اور تنظیموں کے لیے ایک منفرد پلیٹ فارم فراہم کرے گی تاکہ انسداد دہشت گردی کی مالی معاونت پر موجودہ بین الاقوامی نظام کی مؤثریت کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے کے لیے درکار اقدامات پر غور کیا جا سکے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments