Wednesday, December 6, 2023
الرئيسيةNewsمدارس کے سروے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں:سید ارشد مدنی

مدارس کے سروے سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں:سید ارشد مدنی

نئی دہلی ،دیوبند 18 ستمبر

یوگی حکومت کے ذریعہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کرانے کے متعلق ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں منعقد یوپی کے نمائندہ مدارس کے اجلاس میں دارالعلوم دیوبند نے سروے کے حوالہ سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہاکہ اہل مدارس کو سروے کی مخالفت نہیں بلکہ اس میں تعاون کرنا چاہئے کیونکہ مدارس کے اندر کوئی بھی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے، اہل مدارس کو چاہئے کہ وہ اپنا حساب کتاب اور دستاویزات میں شفافیت رکھیں اور مدارس کی تاریخ سے اہل وطن کو واقف کرائیں، اجلاس میں شامل ہوئے سینکڑوں مدارس کے ذمہ داران نے بیک آواز مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی کے ذریعہ پیش کردہ اس اعلامیہ کی حمایت کی،اجلاس دوران مدارس کے طلبہ کے لئے عصری تعلیم کا نظم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیة علماءہند کے صدر مولانا سید ارشد دنی نے واضح الفاظ میں کہاکہ متنازعہ زمین پر بنائے گئے مدارس کی وہ قطعی حمایت نہیں کرتے ہیں اسلئے ایسے مدارس کے ذمہ داران کو از خود ایسے مدارس کو مناسب اور ادارہ کے نام خریدی گئی اراضی پر منتقل کرلینا چاہئے۔ مولانا مدنی نے صاف کیا ہے کہ انہیں سروے سے کوئی دقت نہیں ہے ،کیونکہ مدارس میں چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے دروازے سب کے لئے ہمیشہ سے کھلے ہیں اسلئے سروے سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،انہوںنے کہاکہ مدارس کا جو نظام ہے وہ مکمل ہے اسلئے ہمیں مدارس کے لئے حکومت کی کسی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مدراس کے ڈیڑھ سو سالہ تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سروے کے متعلق دارالعلوم دیوبند کا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ مدارس اسلامیہ کو ذرہ برابر حکومت کے سروے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مدارس اسلامیہ کا ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ہے اسلئے سروے ٹیم کوادارہ سے متعلق مکمل معلومات دیں۔


دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام منعقد مدارس اسلامیہ اترپردیش کے نمائندہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ اس رنگا رنگ تہذیبوں والے ملک میں بسنے والے تمام برادارانِ وطن کے سامنے اس حقیقت کا اظہار ضروری کہ ہندوستان کے طول وعرض میں چلنے والے دینی مدارس، اپنی تعلیمی وتربیتی اور ملکی وسماجی خدمات کی ایک روشن تاریخ رکھتے ہیں، یہ مدارس جن کا آغاز ملک پرانگریزوں کے تسلط کے بعد دارالعلوم دیوبند کے قیام سے ہوا تھا، ان کا مقصد مسلمانوں کے دینی ورثہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ وطن عزیز سے غیر ملکی تسلط کو ختم کرنا بھی تھا، اور انہوں نے ان دونوں مقاصد کو اعلیٰ معیارپر پوراکیا۔ ایک طرف ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی تمام مذہبی ضروریات کا تکفل کیااور اُن کو اچھا مسلمان اور اچھا انسان بنانے میں اعلیٰ کردار اداکیا اور اس طرح ملک کو نہایت ذمہ دار مزاج کے حامل شہری عطاءکیے، دوسری طرف ملک کی آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی اور علماءکی قیادت میں مسلمانوں کو تحریک آزادی میں برادرانِ وطن کے دوش بدوش بلکہ اُن سے آگے بڑھ کر قربانیاں دینے کے لیے تیار کیا، جس کی گواہی اس ملک کا چپہ چپہ دیتا ہے اور جس کو تمام انصاف پسند تاریخ داں تسلیم کرتے ہیں۔پھر آزادی کے بعد بھی ان مدارس نے اپنا شاندار کردار جاری رکھا، ان سے ہمیشہ امن کی آواز بلند ہوئی، ملک کو اچھے شہری ملے اور مفت تعلیم کے ذریعہ ملک کی آبادی کے ایک نادار اور غریب حصہ کو اپنی بساط بھرزندگی بہتر بنانے کا موقع ملا۔مدارس کی تاریخ کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے ا ن مدارس سے ہی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند ہوئی اور انہیں کے فرزندوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود حالات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مدارس کی محنت اور رہنمائی سے ہندوستانی مسلمانوں کی دنیا بھر میں نہایت صاف ستھری شبیہ قائم ہوئی، جس کا اعتراف اپنے اپنے وقت میں ذمہ داران حکومت اور وزراءنے بھی کیا۔ان مدارس کے کردار کا ایک حسین پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی کوئی سرگرمی خفیہ نہیں ہے، مدرسوں کے اندر کسی کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، جس کی وجہ سے خفیہ محکمے اور تفتیشی ادارے بھی پوری طرح مطمئن رہتے ہیں اور ان میں کسی ملک دشمن سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملتاہے۔اپنے ملک اور اس کے نظام کے ساتھ مدارس کی وفاداری اور آئین وقانون کی پاسداری کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے، چنانچہ آج تک کوئی مدرسہ، کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں پایا گیا، اگر اتفاق سے کہیں بعض افراد پر الزام آیا تو اکثر وبیشتر وہ ثابت نہیں ہوا، اور اگر ہو بھی جائے تو اس کے لےے پورے مدرسہ کو یا مدارس کے نظام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا،اس لیے تمام لوگوں کو چاہیے کہ مدارس کے امن پسند اور وطن دوست کردار کو سامنے رکھیں اور منفی باتوںسے متاثر نہ ہوں۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments