Sunday, March 3, 2024
الرئيسيةNewsمودی حکومت انڈیا گیٹ پر ویر ساورکر کا مجسمہ نصب کرے: سنجے...

مودی حکومت انڈیا گیٹ پر ویر ساورکر کا مجسمہ نصب کرے: سنجے راوت

ممبئی، 28 نومبر

شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے پارٹی) کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے راوت نے آج کہا کہ مرکزی حکومت کو انڈیا گیٹ کے قریب نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمے کے قریب ویر ساورکر کا مجسمہ بھی نصب کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت فوری طور پر ویر ساورکر کو بھارت رتن ایوارڈ سے نوازے۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کو بھی مچیور سیاست کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

سنجے راوت نے پیر کی صبح صحافیوں کو بتایا کہ وہ ویر ساورکر سے اپنے دل سے پیار کرتے ہیں جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ساورکر سے محبت محض ایک وہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی ویر ساورکر سے محبت کرتی ہے تو اسے انڈیا گیٹ پر نیتا جی سبھاش چندر بوس کے مجسمہ کے قریب ویر ساورکر کا عظیم الشان مجسمہ نصب کرنا چاہئے، تاکہ ویر ساورکر کا وقار مزید بلند ہو سکے۔ سنجے راوت نے کہا کہ ہم پہلے ہی ویر ساورکر کو بھارت رتن ایوارڈ دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ اس ایوارڈ سے ویر ساورکر نہیں بلکہ بھارت رتن ایوارڈ کا اعزاز ہونے والا ہے۔

سنجے راوت نے کہا کہ اس ملک کی آزادی کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرنے والے لیڈروں اور ملک کی ترقی میں اپنی شراکت داری ادا کرنے والے لیڈروں کی توہین نہ کی جائے۔ چھترپتی شیواجی مہاراج، پنڈت نہرو، باباصاحب امبیڈکر، سردار پٹیل، ویر ساورکر، ایسے لیڈروں کے خلاف کیچڑ اچھال کر سیاست کی جارہی ہے جو آج زندہ نہیں ہیں۔ یہ لیڈر اس وقت اپنا موقف پیش کرنے کے لیے زندہ نہیں ہے۔ سنجے راوت نے یاد دلایا کہ پنڈت نہرو نے وزیر اعظم رہتے ہوئے چھترپتی شیواجی مہاراج کے بارے میں غلط بیان دینے پر معافی مانگی تھی۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم مرار جی دیسائی نے بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کے خلاف غلط بیان دینے پر معافی مانگی۔ اب گورنر بھگت سنگھ کوشیاری اور بی جے پی کے قومی ترجمان چھترپتی شیواجی مہاراج کے خلاف توہین آمیز بیان دینے پر معافی نہیں مانگ رہے ہیں اور بی جے پی ان کی حمایت کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے لوگوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے عوام میں غصہ بڑھ رہا ہے۔

سنجے راوت نے ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے سے کہا کہ وہ پارٹی کے دوسرے لیڈروں کی نقل کرنا بند کریں اور مچیور سیاست کریں۔ اگر عوام مِمکری دیکھنا چاہتے ہیں تو وہ جانی لیور کی مِمکری دیکھیں گے، راج ٹھاکرے کی نہیں۔ سنجے راوت نے کہا کہ نقالی سیاست نہیں ہے، راج ٹھاکرے کو مہاراشٹر کے مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور ان پر سیاست کرنی چاہیے۔

دراصل، راج ٹھاکرے نے کل پارٹی کے پروگرام میں ادھو ٹھاکرے سمیت کئی دوسرے لیڈروں کی نقل کی تھی۔ اس کا جواب سنجے راوت نے آج راج ٹھاکرے کو دیا ہے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments