منی لانڈرنگ :  اداکارہ نورا فتیحی ای ڈی کے سامنے پیش

News National

نئی دہلی، 02 دسمبر

۔ منڈولی جیل میں بند سکیش چندر شیکھر کے خلاف پی ایم ایل اے تحقیقات کے سلسلے میں اداکارہ نورا فتحی جمعہ کے روز دہلی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے سامنے پیش ہوئیں۔

نورا فتحی 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے آج دہلی میں ای ڈی کے دفتر پہنچیں۔ اس سے قبل 15 ستمبر کو بالی ووڈ اداکارہ نورا فتحی سے اقتصادی جرائم ونگ ( ای اوڈبلیو) میں پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔ 30 نومبر کو، قومی راجدھانی کی ایک مقامی عدالت نے ٹھگ سکیش چندر شیکھر سے متعلق جبراً وصولی معاملے میں دہلی پولیس کے ذریعہ بدھ کے روز گرفتار پنکی ایرانی کو تین دن کے لیے پولیس حراست میں بھیج دیا۔

مقامی عدالت نے یہ بھی کہا کہ پولیس کو معاملے کی جامع تحقیقات کرنے کے لیےکھلی چھوٹ دی جانی چاہیے۔ دہلی پولیس کے ترجمان سمن نلوا نے کہا کہ ممبئیکی رہائشی ایرانی ای او ڈبلیو دفتر میں تحقیقات میں شامل ہوئیں ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایرانی نے ہی مبینہ طور پر بالی ووڈ کی کئی مشہور شخصیات بشمول اداکارہ جیکولین فرنانڈیز کا تعارف ٹھگ سکیش چندر شیکھر سے کروایا تھا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ وصولی کی رقم کی تقسیم میں بھی اہم کردار ادا کر تی رہی تھی۔

نلوا نے کہا کہ (ایرانی کے خلاف) کافی ثبوت ہونے کے بعد اسے اس معاملے میں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ جہاں سے اسے تین دن کی پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔ای او ڈبلیو نے ستمبر میں جبراً وصولی کے معاملے میں فرنانڈیز سے پوچھ گچھ کی تھی۔ چندر شیکھر، جو اس وقت جیل میں ہیں، پر فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹر شیوندر موہن سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ جیسے ہائی پروفائل افراد سمیت کئی لوگوں کے ساتھ دھوکہ ہی کرنے کا الزام ہے۔ خصوصی جج شیلیندر ملک نے پولیس کی درخواست پر ایرانی کو 3 دسمبر تک اس کی حراست میں پوچھ گچھ کے لئے بھیج دیا۔

پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ مرکزی ملزم چندر شیکھر کے رابطے میں تھی اور اس کی مجرمانہ سرگرمیوں سے واقف تھی۔ وہ مبینہ طور پر چندر شیکھر کو ایک بہت بڑے بزنس مین کے طور پر پیش کر تی تھی اور کچھ بالی ووڈ شخصیات کے ساتھ ان کی ملاقاتوں کو سہولت فراہم کرنے میںمعاون تھی۔ ایرانی کی چار دن کی حراست کا مطالبہ کرتے ہوئے، پولیس نے عدالت کو بتایا کہجبراً وصولی سے حاصل رقم کا پتہ لگانے اور جائیدادوں اور دیگر مددگاروں کی شناخت کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *