Thursday, April 25, 2024
الرئيسيةNewsجمہوریت کی ماں کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید مضبوط...

جمہوریت کی ماں کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت : وزیر اعظم

آئین ساز اسمبلی میں خواتین ارکان کی شراکت پر مزید بات ہونی چاہیے

نئی دہلی، 26 نومبر

جمہوریت کی ماں کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ہماری سب سے بڑی تحریک اور طاقت ہمارا آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرد ہو یا ادارہ، ہمارے فرائض ہماری اولین ترجیح ہیں۔ امرت کال ہمارے لیے فرائض کا دور ہے۔

وزیراعظم ہفتہ کو سپریم کورٹ میں یوم آئین کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے تقریب کے دوران ریموٹ بٹن دبا کر ای کورٹس پروجیکٹ کے تحت مختلف نئے اقدامات کا بھی آغاز کیا، جن میں ورچوئل جسٹس کلاک، جسٹس موبائل ایپ 2.0، ڈیجیٹل کورٹ اور ایس 3ڈبلیو اے ایس ویب سائٹ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ بروقت انصاف کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے۔ آج شروع کیا گیا ای انیشی ایٹو سب کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کی جانب ایک اور قدم ہے۔

یوم آئین پر مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ 1949 میں اس دن آزاد ہندوستان نے اپنے لیے ایک نئے مستقبل کی بنیاد رکھی تھی۔ اس یوم دستور کو آزادی کے امرت کال کے پیش نظر اہم بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ یوم دستور اس وقت اور بھی خاص ہو جاتا ہے کیونکہ ہندوستان اپنی آزادی کے 75 سال کا سفر مکمل کرنے کے بعد آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دستور ساز اسمبلی کے تمام اراکین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے گزشتہ 70 دہائیوں میں ترقی اور قانون سازی کے سفر میں مقننہ، عدلیہ اور ایگزیکٹو کے لاتعداد افراد کے تعاون پر روشنی ڈالی اور اس خصوصی موقع پر پورے ملک کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم نے ہندوستان کی تاریخ کے اس سیاہ دن کو یاد کیا جب 14 سال قبل ممبئی پر انسانیت کے دشمنوں نے حملہ کیا تھا۔ مودی نے ان لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے ممبئی میں خوفناک دہشت گردانہ حملے میں اپنی جانیں گنوائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملے کا دن بھی ہے۔ 14 سال پہلے جب ہندوستان اپنے آئین اور اپنے شہریوں کے حقوق کا جشن منا رہا تھا، ہندوستان پر سب سے بڑا دہشت گرد حملہ انسانیت کے دشمنوں نے کیا تھا۔ میں ممبئی دہشت گردانہ حملے میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ موجودہ عالمی منظر نامے میں پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ہندوستان کی تیز رفتار ترقی، ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور ہندوستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی امیج کے درمیان، دنیا ہماری طرف بڑی توقعات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے استحکام کے بارے میں تمام ابتدائی خدشات کو رد کرتے ہوئے، ہندوستان پوری طاقت اور اپنے تنوع پر فخر کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کامیابی کا کریڈٹ انہوں نے آئین کو دیا۔ وزیر اعظم نے تمہید کے پہلے تین الفاظ، “ہم ہندوستان کے لوگ” کا حوالہ دیا اور کہا، “ہم ہندوستان کے لوگ” ایک پکار، ایک عقیدہ اور ایک عہد ہے۔ آئین کی یہ روح ہندوستان کی بنیادی روح ہے جو دنیا میں جمہوریت کی ماں رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “جدید دور میں، آئین نے قوم کے تمام ثقافتی اور اخلاقی جذبات کو جذب کر لیا ہے۔

وزیراعظم نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جمہوریت کی ماں ہونے کے ناطے ملک آئین کے نظریات کو تقویت دے رہا ہے اور عوام نواز پالیسیاں ملک کے غریبوں اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قوانین کو عام شہریوں کے لیے آسان اور قابل رسائی بنایا جا رہا ہے اور عدلیہ بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔

اپنی تقریر میں فرائض پر زور دینے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ آئین کی روح کا مظہر ہے۔ امرت کال کو کرتویہ کال بتاتے ہوئے وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ آزادی کے امرت کال میں جب ملک آزادی کے 75 سال مکمل کر رہا ہے اور ہم نے اگلے 25 سالوں کے لیے ترقی کے سفر کا آغاز کیا ہے، تب کرتویہ کا منتر قوم کے لیے سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا، ”آزادی کا یہ امرت کال ملک کے لیے ایک فرض ہے۔ افراد ہوں یا ادارے، ہماری ذمہ داریاں آج ہماری اولین ترجیح ہیں۔ مودی نے کہا کہ اپنے فرض کے راستے پر چل کر ہی ہم ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایک ہفتے کے اندر، ہندوستان جی-20 کی صدارت سنبھالنے والا ہے، اور ایک ٹیم کے طور پر دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، “یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔” انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی ماں کے طور پر ہندوستان کی شناخت کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

نوجوانوں پر مرکوز جذبے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آئین اپنی کشادگی، مستقبل اور جدید وزن کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی ترقی کی کہانی کے تمام پہلوو¿ں میں نوجوانوں کی طاقت کے کردار اور شراکت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں میں آئین کے بارے میں سمجھ بوجھ بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئینی موضوعات پر بحث ومباحثہ کا حصہ بنیں۔

مساوات اور بااختیار بنانے جیسے مسائل کی بہتر تفہیم کے لیے نوجوانوں میں آئین ہند کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس وقت کو یاد کیا جب ہمارا آئین تیار کیا گیا تھا اور ملک کو جن حالات کا سامنا تھا۔ انہوں نے کہا، ”اس وقت دستور ساز اسمبلی کی بحث میں کیا ہوا، ہمارے نوجوانوں کو ان تمام موضوعات کے بارے میں جاننا چاہیے۔“ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے آئین کے تئیں ان کی دلچسپی بڑھے گی۔ وزیر اعظم نے اس کی مثال پیش کی جب ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی میں 15 خواتین ممبران تھیں اور انہوں نے دکشنانی ویلودھن جیسی خواتین کو اجاگر کیا جو ایک پسماندہ معاشرے سے اٹھ کر وہاں پہنچی تھیں۔ وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دکشنا ویلودھن جیسی خواتین کے تعاون پر شاذ و نادر ہی بات کی جاتی ہے، اور کہا کہ انہوں نے دلتوں اور مزدوروں سے متعلق کئی مسائل پر اہم مداخلت کی ہے۔ وزیر اعظم نے درگابائی دیش مکھ، ہنسا مہتا اور راج کماری امرت کور اور دیگر خواتین ارکان کی مثالیں پیش کیں جنہوں نے خواتین سے متعلق مسائل میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب ہمارے نوجوانوں کو یہ حقائق معلوم ہوں گے تو انہیں اپنے سوالوں کے جواب مل جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو بھارت کے بارے میں جو خدشات تھے وہ امیدوں میں بدل گئے، دنیا نے بھارت سے سیکھا ہے۔ اس طرح ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے۔ اس طرح بھارت اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اس سب کے پیچھے سب سے بڑی طاقت ہمارا آئین ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عالمی صورتحال میں پوری دنیا کی نظریں ہندوستان پر لگی ہوئی ہیں۔ ہندوستان کی تیز رفتار ترقی، ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور ہندوستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی امیج کے درمیان، دنیا ہماری طرف بڑی توقعات کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا ڈاکٹر ڈی وائی چندر چوڑ ، مرکزی وزیر قانون و انصاف کرن رجیجو، سپریم کورٹ کے جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایس عبدالنذیر، قانون و انصاف کے مرکزی وزیر مملکت پروفیسر۔ ایس پی بگھیل، اٹارنی جنرل آف انڈیا آر وینکٹ ر مانی، سالیسٹر جنرل آف انڈیا تشار مہتا اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ اس موقع پر موجود تھے۔

 

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments