Sunday, April 21, 2024
الرئيسيةNewsساورکر کے خطوط اصلی لیکن اسے معافی نامہ نہیں کہا جا سکتا:...

ساورکر کے خطوط اصلی لیکن اسے معافی نامہ نہیں کہا جا سکتا: ستیہ کی ساورکر

ممبئی، 19 نومبر

۔ مجاہد آزادی ویر ساورکر کے دوسرے پوتے ستیہکی ساورکر نے ہفتہ کو کہا کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے جو خطوط دکھائے ہیں ، وہ اصلی ہیں لیکن انہیں معافی نامہ نہیں کہا جا سکتا۔ راہل جو یہ کہتے ہیں کہ ویر ساورکر نے انگریزوں سے پنشن لی تھی، وہ بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر انگریزوں کے کوئی ملازم نہیں تھے کہ انہیں سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن ملے گی۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ راہل گاندھی پنشن اور روزی الاو¿نس کے درمیان فرق کوہی نہیں سمجھ سکے۔

ستیہکی ساورکر نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے راہل گاندھی کی جانب سے ویر ساورکر پر لگائے گئے الزامات کاجواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے جو خطوط میڈیا کو دکھائے ہیں، وہ حقیقی ہیں اور وہ تمام درخواستی خطوط ہیں۔ ویر ساورکر جب انڈمان گئے تو انہیں کوئی سہولت نہیں دی گئی۔ انہیں ایک کوٹھری میں بند کر دیا گیاتھے۔ ویر ساورکر نے اس وقت برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ انہیں ایک سیاسی قیدی جیسی سہولیات ملنی چاہئیں۔ انہوں نے وقتاً فوقتاً درخواستیں دیں۔ بعد میں انہوں نے رہائی کے لیے درخواست دی۔ ویر ساورکر نے یہ سب کچھ قیدیوں کے لیے کیا، چاہے وہ غدر تحریک کے ہوں یا بنگال کی تحریک سے۔

Rahul With Savarkar letter

ویر ساورکر کو انگریزوں سے پنشن ملنے کے راہل گاندھی کے الزام پر ستیہکی ساورکر نے کہا کہ راہل گاندھی کو معلوم ہونا چاہیے کہ ویر ساورکر انگریزوں کے نوکر یا ملازم نہیں تھے کہ انگریز انھیں پنشن دیتے۔ پنشن عام طور پر نوکر یا ملازم کو دی جاتی ہے۔ راہل گاندھی کو پنشن اور روزی الاو¿نس میں فرق کا علم نہیں ۔ پنشن کا مطلب ہے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی تنخواہ۔ ساورکر کو مینٹیننس الاو¿نس مل رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے گزارہ الاو¿نس۔ انہوں نے کہا کہ ویر ساورکر کے پاس بیرسٹر کی ڈگری نہیں تھی۔ انہیں رتناگیری چھوڑنے کی اجازت نہیں تھی۔ ایسی حالت میں زندہ رہنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ ایسے قیدی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ برطانوی حکومت نے سال 1928 میں منظور کیے گئے ایکٹ کے تحت 1929 میں ساورکر کے لیے ماہانہ 60 روپے کا گزارہ الاو¿نس شروع کیا تھا۔ اسے پنشن نہیں کہا جا سکتا۔

ستیہکی ساورکر نے کہا کہ راہل گاندھی کے بیانات صرف سیاست پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کے اس طرح کے بیان سے دکھ تو ہوا لیکن دوسری طرف انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں میں ویر ساورکر کے بارے میں جاننے کا تجسس پیدا ہوگا اور وہ سبھی ویر ساورکر کے خیالات کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments