Monday, February 26, 2024
الرئيسيةUncategorizedمولانا جلال الدین عمری سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

مولانا جلال الدین عمری سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک

نئی دہلی ،27اگست ( نمائندہ)

سیکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں آج صبح دس بجے معروف عالم دین اور جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر مولانا جلال الدین عمری کی تدفین عمل میں آئی ۔نماز جنازہ مرکز جماعت اسلامی ہند کے کیمپس میں واقع مسجد اشاعت اسلام میں ہوئی اور تدفین شاہین باغ قبرستان میںعمل میں آئی ۔اس موقع پر بڑی تعداد میں مقامی اور بیرون دہلی عوام نے شرکت کی ۔عوام کے علاوہ دیگر ملی تنظیموں کے سر براہان نے بھی آپ کی تدفین میں حاضری دی۔واضح رہے کہ مولانا جلا ل الدین عمری کا گزشتہ روز جمعہ کی شام کو انتقال ہو گیا تھا۔آپ لمبے عرصے سے بیمار تھے۔پچھلے سال کورونا کا شکار بھی ہو گئے تھے ۔جس کے بعد آپ لاغر اور کمزور ہو گئے تھے اور متعدد صحت سے متعلق بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے ۔گزشتہ ایک ہفتے سے جماعت اسلامی دہلی کے کیمپس میں واقع الشفا اسپتال میں زیر علاج تھے اور یہیں جمعہ کی شام کو آخری سانس لی۔آپ کے پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیا ہیں۔ آپ کے انتقال پر عالمی پیمانے پر متعدد ملی تنظیموں کے سربراہان نے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور آپ کے انتقال کو ملت کے لئے عظیم خسارہ قرار دیا ہے ۔
واضح رہے کہ مولانا عمری کا شمار عالم اسلام کے ان چند ممتاز علماءمیں ہوتا ہے جنھوں نے مختلف پہلوو¿ں سے اسلام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور اسلام کی تفہیم و تشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر تیار کیا ہے۔ اسلام کی دعوت، عقائد، عبادات، معاشرت، معاملات اور سیاست پر آپ کی تصانیف سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
مولانا کی ولادت 1935 میں جنوبی ہند میں مسلمانوں کے ایک مرکز شمالی آرکاٹ کے ایک قصبے پتگرام میں ہوئی۔ انھوں نے جنوبی ہند کی معروف دینی درس گاہ ’جامعہ دارالسلام عمرآباد‘ سے 1954 میں سندِ فضیلت حاصل کی، مدراس یونیورسٹی سے فارسی میں منشی فاضل اور علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے بی، اے (اونلی انگلش) کے امتحانات پاس کیے۔ جامعہ عمر آباد سے فراغت کے فوراً بعد آپ مرکز جماعت اسلامی ہند رامپور آ گئے اور وہاں کے اصحابِِ علم سے استفادہ کیا۔ 1956 میں جماعت اسلامی ہند کے شعب? تصنیف سے وابستہ ہوگئے۔ یہ شعبہ 1970 میں رام پور سے علی گڑھ منتقل ہو گیا اور ایک دہائی کے بعد اسے ’ادار? تحقیق وتصنیف اسلامی‘ کے نام سے ایک آزاد سوسائٹی کی شکل دے دی گئی۔ مولانا اس کے آغاز سے 2001 تک اس کے سکریٹری تھے، اس کے بعد اب تک اس کے صدر تھے۔ آپ ادارہ کے باوقار ترجمان سہ ماہی مجلہ ’تحقیقات اسلامی‘ کے بانی مدیر بھی رہے ہیں۔ یہ مجلہ اپنی زندگی کے 40 سال پورے کر چکا ہے۔ اسی دوران میں انہوں نے پانچ سال (1986 تا 1990) جماعت اسلامی ہند کے ترجمان ماہ نامہ زندگی نو نئی دہلی کی ادارت کے فراض بھی انجام دیے۔ مختلف موضوعات پر مولانا عمری کی تقریباً چار درجن تصانیف ہیں۔آپ کا شمارجماعت اسلامی کے چوٹی کے علما میں ہوتا تھا۔آپ کے انتقال سے ملی قیادت میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پر ہونا مستقبل قریب میں نظر نہیں آتا۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments