Monday, February 26, 2024
الرئيسيةUncategorizedصدر مرمو نے 2025 تک تپ دق کے خاتمے کی مہم کا...

صدر مرمو نے 2025 تک تپ دق کے خاتمے کی مہم کا کیا آغاز

نئی دہلی ،09ستمبر :

صدر دروپدی مرمو نے جمعہ کو ‘پردھان منتری ٹی بی فری انڈیا مہم’ کا آغاز کیا اور لوگوں سے 2025 تک ملک سے تپ دق (ٹی بی) کو ختم کرنے کے لیے متحد کوشش کرنے کی اپیل کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ تمام شہریوں کا فرض ہے کہ وہ ‘پردھان منتری ٹی بی فری انڈیا مہم’ کو اعلیٰ ترجیح دیں اور اسے ایک عوامی تحریک بنائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں دیگر تمام متعدی بیماریوں کے مقابلے ٹی بی سے سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کل آبادی میں ہندوستان کی آبادی کا حصہ 20 فیصد سے کچھ کم ہے، لیکن دنیا میں ٹی بی کے کل مریضوں میں سے 25 فیصد سے زیادہ ہندوستان میں ہیں۔ یہ تشویشناک بات ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی بی سے متاثرہ زیادہ تر افراد کا تعلق معاشرے کے غریب طبقے سے ہے۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ ‘نیو انڈیا’ کی سوچ اور طریقہ کار ہندوستان کو دنیا میں ایک سرکردہ ملک بنانا ہے۔ ہندوستان نے کووڈ-19 وبائی مرض سے نمٹنے میں دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔ اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کی نئی ہندوستان کی حکمت عملی ٹی بی کے خاتمے کے میدان میں بھی نظر آتی ہے۔ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق تمام ممالک نے سال 2030 تک ٹی بی کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ لیکن حکومت ہند نے اس سے پانچ سال پہلے سال 2025 تک ٹی بی کو ختم کرنے کا عزم کیا ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

صدر نے کہا کہ اس مہم کو عوامی تحریک بنانے کے لیے لوگوں میں ٹی بی کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ہوگی۔ انہیں بتانا ہوگا کہ اس بیماری سے بچاو¿ ممکن ہے۔ اس کا علاج موثر اور قابل رسائی ہے اور حکومت اس بیماری سے بچاو¿ اور علاج کے لیے مفت سہولیات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ مریضوں یا کمیونٹیز میں اس بیماری سے ایک احساس کمتری کا تعلق ہے اور وہ اس بیماری کو بدنما داغ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ وہم بھی دور کرنا ہوگا۔ سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ ٹی بی کے جراثیم اکثر ہر کسی کے جسم میں موجود ہوتے ہیں۔ جب کسی شخص کی قوت مدافعت کسی وجہ سے کم ہو جاتی ہے تو یہ بیماری اسے اپنی زد میں لے لیتی ہے۔ یہ بیماری علاج سے یقینی طور پر ٹھیک ہو سکتی ہے۔ یہ تمام چیزیں عوام تک پہنچنی چاہئیں۔ تب ہی ٹی بی میں مبتلا افراد علاج کی سہولیات حاصل کر سکیں گے۔

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments