Monday, February 26, 2024
الرئيسيةUncategorizedاناج کی خریداری میں پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی موقع دینے پر غور

اناج کی خریداری میں پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی موقع دینے پر غور

نئی دہلی، 20 ستمبر

مرکزی حکومت جلد ہی ملک میں غذائی اجناس کی ضروریات اور ہنگامی صورتحال کے لئے اناج کے موثر اسٹاک کو بہتر بنانے کی سمت میں کام شروع کرنے جا رہی ہے۔ اس سال، مرکزی حکومت فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیوں کو اناج خریدنے کی اجازت دے سکتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس سلسلے میں وزارت خوراک کی طرف سے تمام ریاستوں کو خط بھیجا گیا ہے۔

وزارت خوراک سے اس حوالے سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اناج کی خریداری کے لئے نجی کمپنیوں کو شامل کرنے کا فیصلہ ان کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، تاکہ خریداری کی مجموعی لاگت کو کم کیا جاسکے۔

مرکزی حکومت کا ماننا ہے کہ اگر پرائیویٹ کمپنیاں حکومتی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کم قیمت پر اناج کی خریداری میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے سرکاری ایجنسی کی لاگت میں بھی کمی آئے گی اور غذائی اجناس کی خریداری کا کام زیادہ مؤثر طریقے سے مکمل ہو سکے گا۔بتایا جا رہا ہے کہ ایف سی آئی اور دیگر سرکاری ایجنسیوں کے اخراجات کی وجہ سے اناج کی خریداری کی لاگت کافی بڑھ جاتی ہے، وہیں پرائیویٹ کمپنیاں اخراجات میں کمی کر کے اس لاگت کو آسانی سے کم کرلیتی ہیں۔

تاہم، خوراک کی وزارت کی طرف سے ریاستوں کو بھیجے گئے اس خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ لاگت کو کم کرنے کے لئے، کسی بھی کمپنی یا ایجنسی، سرکاری یا نجی، کو کم سے کم قیمت پر اناج خریدنے کی اجازت ہے۔ لیکن انکی سختی سے نگرانی کی جائیگی کہ وہ حکومت کی طے کردہ کم از کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اناج کی خریداری کرنے والی کسی بھی نجی کمپنی کے حوالے سے شکایت موصول ہوئی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ماہرین کے مطابق وزارت خوراک کی جانب سے ریاستوں کو بھیجے گئے خط میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی نجی کمپنی یا ایجنسی کو اناج کی خریداری کا کام دیا جاتا ہے تو اس کی خریداری کے عمل کی کڑی نگرانی کی جائے گی، تاکہ نجی کمپنیاں حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس کے ساتھ ہی وزارت خوراک نے ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ نجی کمپنیاں کسانوں کو ان کے اناج کی قیمت وقت پر ادا کریں۔ تاکہ کسانوں کو کسی بھی حالت میں کسی قسم کی پریشانی یا نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

 

 

 

RELATED ARTICLES

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

Most Popular

Recent Comments